ساھیوال سانحے کا نئین پاکستان کے دعویداروں کے مطالبا


اب ھمارے ذھن میھڑ کے قریب بونے والے جعلی پولیس مقابلے کو نہیں بول سکے تھے جس میں پولیس نے کجھ دن پھلے گرفتار کئی ھویے پرائمری استاد کو ڈاکو قرار دی کر قتل کردیا تھا تو اوپر سے اب ساھیوال پولیس نے وحیشت کی انتھا کردی جھان پوليس نے دن دھارے شادی میں شرکت کے لیے جانے والی فیملی کو دھشتگرد قرار دیکھ والد اور والدہ کو ان کے بچوں کے سامنے  4 افراد کو جعلء پولیس مقابلے مین مار دلا. 
یہ کوئی پہلی بار پولیس گردی کا واقعہ نہین بوا اس سے پہلے بھی پورے ملک میں پولیس گردی کے کئی مثالیں موجود ہیں مگر ساھیوال میں پیش آنا والا واقعہ اس لئے بھی ان تمام واقعات سے الگ دکھائی دے رہا ہے کہ اس میں جو پولیس گردی کی گئی ہے اس مین معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کیا گیا ھے، مگر پولیس گردی میں 4 افراد کو بیگناھ قتل کیا گیا، اب تو بچون کا بیان بھی میڈیا پر آچکا کہ والد نے پولیس کو پیسے بھی آفر کئے تھے مگر ان بیڑیوں نے ایک نا سنی. 

میں تو یہ سوچ نہیں پاتا کہ اس بچون نے یہ منظر جیسے دیکھا گوگا 
میں نئین پاکستان کے دعویداروں سے باتھ بانڈ کر اپیل کرتا بون کہ اس واقعہ کی آزاد اور شفاف انکوائری کرواکے ملزمان کو گرفتار کر کے سرعام سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اس طرح سرکاری ھتہیار اور پاور کا غلط استعمال نا کرکے. 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

راحت فتح علی خان کے لئے سال 2019 مصروف ترین سال ھے

ڈاکٹروں اور سندھ حکومت میں مذاکرات کامیاب، آج سے اوپی ڈیز کھول جائیگی

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جامشورو پریس کلب کی عمارت کو مسمار کرنے کی کوشش کی مذمت